سوال :                  ورچوئل اسلامک یونیورسٹی میں کلاسز کا طریقِ کار کیا ہو گا؟

جواب :             ورچوئل اسلامک یونیورسٹی اپنے کورسز ورچوئل کلاس رومز کے ذریعے لائیو پیش کرتی ہے۔فی الوقت اس حوالے سے زوم (Zoom)سافٹ وئیر کا پیڈ ورژن حاصل کیا گیا ہے۔ان شاء اللہ مستقبل میں یونیورسٹی اپنی ایپلیکیشن ڈیویلپ کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کلاس کے وقت ویڈیو میٹنگ شروع کی جاتی ہے،دی گئی آئی ڈی سے طلبہ جوائن ہوتے ہیں۔

ورچوئل کلاس روم میں وہ تمام سہولیات آن لائن دستیاب ہوں گی ، جو ایک فزیکل کلاس روم آن سائٹ موجود ہوتی ہیں، ان کے علاوہ ایسی آپشنز بھی ہوں گی، جو ایک فزیکل کلاس روم میں استعمال نہیں کی جا سکتیں۔

مثلا ؛

طلبہ زوم آئی ڈی دے کر وقت سے یا استاذ سے پہلےکلاس میں انٹر ہو کر انتظار کر سکتے ہیں۔

کسی بھی طالب علم کو سوال کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھانے کی آپشن دستیاب ہو گی۔

اگر استاذ اجازت دے تو کوئی بھی طالب علم پوری کلاس کے سامنے بات کر سکتا ہے۔

کسی بھی طالب علم کا مائیک اور کیمرہ آف یا آن کیا جا سکتا ہے۔

استاذ کی اجازت سے پوری کلاس آپس میں بھی چیٹ کر سکتی ہے، ایک بٹن دبا کر کسی ایک سے یا سب سے یہ اختیار واپس لیا جا سکتا ہے۔

کسی بھی طالب علم کو قواعد وقوانین کی پابندی نہ کرنے پر ایک بٹن دبا کر کلاس روم سے نکالا جا سکتا ہے تاکہ دیگر طلبہ پریشان نہ ہوں۔

زیادہ لیٹ ہونے پر جوائننگ لاک کر کے مزید لوگوں کے داخلے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

ورچوئل کلاس روم میں لکھ کر سمجھانے کے لیے سافٹ وئیر کے اندر ہی وائیٹ بورڈ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سکرین شیئر کر کے کسی بھی فارمیٹ میں پریزینٹیشن یا کوئی مواد دکھایا جا سکتا ہے۔

فزیکل کلاس روم  میں کلاس کے وقت کسی وجہ سے غیر حاضر ہونے والا استاذ کے لیکچر سے محروم رہ جاتا ہے، لیکن ورچوئل کلاس روم میں وہ استاذ سے رابطہ کر کے اسی لیکچر کو دوبارہ بھی دیکھ اور سن سکتا ہے۔

اسی طرح اور بھی بہت سی آپشنز موجود ہیں۔

سوال :                  کیا سمسٹر کی پوری فیس ایڈوانس میں ادا کرنا ضروری ہے؟

جواب :             ورچوئل اسلامک یونیورسٹی اپنے طلبہ کے مسائل کا خیال کرتی ہے، بہتر یہی ہے کہ ایڈوانس میں مکمل فیس ادا کر دی جائے، لیکن اگر کوئی طالب علم یکمشت ادائیگی نہیں کر سکتا تو رجسٹریشن فیس کے ساتھ تین ہزار روپے ادا کر کے باقی ماندہ رقم کی دو یا تین انسٹالمنٹس کروا سکتا ہے۔

سوال :                  ورچوئل اسلامک یونیورسٹی میں فیس میں کمی ہو سکتی ہے؟

جواب :             ورچوئل اسلامک یونیورسٹی دینی علوم کو فروغ دینے کے لیے کمربستہ ہے، پہلے ہی فیس بہت مناسب رکھی گئی ہے،لیکن اگر کوئی طالب علم مالی حوالےسے پسماندہ ہے اور وہ اتنی فیس بھی افورڈ نہیں کر سکتا تو اس کے لیے فیس میں رعایت حاصل کرنے کی آپشن موجود ہے۔البتہ کچھ وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر فیس معاف نہیں کی جا سکتی۔یہ وجوہات مالی معاملات سے بڑھ کر کلاس کے ڈسپلن سے متعلق ہیں۔یہ بات تجربے میں آ چکی ہے کہ جن طلبہ کو بالکل فری ایڈمشن دیا گیا،وہ کلاس میں بالکل حاضر نہیں ہوئے۔

سوال :                  کلاس کے دوران ذہن میں آنے والے اشکالات  یا سوالات  کے حل کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟

جواب :             ورچوئل اسلامک یونیورسٹی کی بعض کلاسز کے دوران اور بعض کے اختتام پر لائیو ویڈیو،آڈیو یا لکھ کر سوال کیے جا سکیں گے، اسی طرح سوال وجواب کی نشستیں مختلف دنوں کے مختلف اوقات میں بھی رکھی جائیں گی تاکہ اسباق کے حوالے سے کوئی بھی تشنگی باقی نہ رہے۔

سوال :                  اگر کوئی طالب علم کلاس کے وقت حاضر نہیں ہو سکا تو کیا وہ سبق سے محروم رہ جائے گا؟

جواب :             ورچوئل اسلامک یونیورسٹی نے اس مسئلے کو حل کر دیا ہے، اگر کوئی طالب علم کسی مجبوری کی وجہ سے کلاس میں لائیو حاضر نہیں ہو سکا تو استاذ سے رابطہ کر کے وہی لیکچر دوبارہ دیکھ اور سن سکتا ہے،لیکن ڈسپلن کی خاطر یہ آپشن صرف انتہائی مجبوری میں کلاس چھوڑنے والے افراد کے لیے میسر ہو گی۔

سوال : کیا ورچوئل اسلامک یونیورسٹی کی سند گورنمنٹ سے منظور شدہ ہو گی؟

جواب :             ہماری یونیورسٹی ابھی نئی ہے، اس کی ڈگری کسی گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں ہے، البتہ مستقبل میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے اس کی سند اہمیت کی حامل ہو گی، ان شاء اللہ

ہم سند کی بجائے علمی معیار مہیا کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ 

 

سوال : پڑھائی جانے والی کتابیں یا مواد کہاں سے اور کیسے دستیاب ہو گا؟

جواب :   ورچوئل اسلامک یونیورسٹی میں پڑھایا جانے والے سلیبس کا اکثر حصہ وفاق المدارس السلفیہ کا متعین کردہ ہو گا، جو طلبہ ہارڈ کاپی میں کسی طرح حاصل کر لیں، ورنہ انہیں آن لائن پی ڈی ایف یا امیج فارمیٹ میں مہیا کر دیا جائے گا۔ جو چیزیں زائد پڑھائی جائیں گی، روزانہ کی بنیاد پر وہ بھی پی ڈی ایف اور امیج وغیرہ کی صورت میں آن لائن مہیا کر دی جائے گی۔ طلبہ دوران کلاس اپنی کاپی یا رجسٹر وغیرہ پر لکھ کر بھی مواد کو محفوظ کر سکتے ہیں۔ 

 

سوال : کیا ورچوئل اسلامک یونیورسٹی میں داخلہ لے کر صرف لیکچرز کو سننا کافی ہو گا؟

جواب :             ایسا ہرگز نہیں، ہمارا مطمعِ نظر کوئی ”ڈنگ ٹپاؤ ”پروگرام چلانا نہیں،بلکہ علم میں رسوخ مہیا کرنا ہمارا نصب العین ہے۔اس لیے ہر لیکچر کو سننے کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی اسائنمنٹس حل کر کے جمع کرانا بھی لازم ہو گا۔ پھر ہر سمسٹر میں مڈ ٹرم اور فائنل ٹرم امتحانات بھی ہوں گے۔ ان اقدامات سے عربی زبان لکھنا،پڑھنااور سمجھنابالکل آسان ہو جائے گا، نیز عربی گرائمر پر گرفت مضبوط ہو جائے گی۔